Tuesday, October 17, 2017
حمد باری تعالیٰ
Monday, September 11, 2017
ग़ज़ल غزل
غزل
شدّتِ غم کے عجب مراحل میں
عمر گزری ہے ہجر کے پل میں
شہرِ جاناں میں سر جھکائے ہوئے
جا کھڑا ہوں میں کوئے قاتل میں
بے رخی کے تھے تیر کچھ ایسے
تاب باقی نہ تھی مرے دل میں
ہر گھڑی محوِ فکرِ جاناں ہوں
ہوش باقی نہیں ہے غافل میں
دردِ فرقت کا اک یہی مرہم
عکسِ جاناں ہے ماہِ کامل میں
یارِ محسن کا ہے کرم ایسا
عشق روشن ہوا ہے جاہل میں
نامِ محسن لبوں پہ رہتا ہے
جان باقی ہے اسی محفل میں
Tuesday, September 5, 2017
कविता
आज आया हूँ लौट कर फिर से,
कुछ घड़ी दूर होगया था मैं।
दूरियाँ थी मगर फिर उनके लिये,
एक एहसास बन गया था मैं।
कुछ थी मजबूरियाँ के मिल न सका,
वह समझते थे खो गया था मैं।
उन से रूठा नहीं था एक पल भी,
वह यह समझे ख़फ़ा ख़फ़ा था मैं।
अपनी रुसवाईयों के डर से ही,
इश्क़ से दूर हो गया था मैं।
किस ने आवाज़ दी मुझे फ़िर से,
फ़िर से उस जानिब बढ़ रहा था मैं।
रोक क़दमों को अब ठहर *मोहसिन*
ख़ुद को ही दिल में कह रहा था मैं।
✍🏻मोहसिन यासीन✍🏻
Wednesday, August 30, 2017
عشق کا قوس وقزع (इश्क़ का इंद्रधनुष )
پاک ہے روح، جسم پاکیزہ
اک دھنک رنگ عشق پاکیزہ
کر وفا کردے عشق پاکیزہ
اس کے ہونے سے روح پاکیزہ
کر لے محسوس پیار پاکیزہ
ہر گھڑی اس کی فکر پاکیزہ
چاہتوں کا یہ بھرم پاکیزہ
عشق کا رنگِ تڑپ پاکیزہ
یہ شہادت ہے یار پاکیزہ
مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہند
पाक है रूह, जिस्म पाकीज़ा
एक धनक रंग इश्क़ पाकीज़ा
कर वफ़ा कर दे इश्क़ पाकीज़ा
इस के होने से रूह पाकीज़ा
कर ले महसूस प्यार पाकीज़ा
हर घड़ी उस की फ़िक्र पाकीज़ा
चाहतों का यह भरम पाकीज़ा
इश्क़ का रंग ए तड़प पाकीज़ा
यह शहादत है यार पाकीज़ा
मालेगांव, महाराष्ट्र, भारत
Tuesday, August 29, 2017
غزل (ग़ज़ल)
کہنے لگی کہ یاد بھی کرتے نہیں ہیں اب۔
خود ٹوٹ کر بِکھرتی ہے تنہائیوں سے اب۔
وعدے پہ میرے خود کو سمیٹے ہوئے ہیں اب۔
وعدہ تھا ساتھ جینے کا مرنا ہے ساتھ اب۔
تجھ کو وفا کا واسطہ، دوری مِٹا دے اب۔
कहने लगी के याद भी करते नहीं है अब...
ख़ुद टूट कर बिखरती है तन्हाईयों से अब...
वादे पे मेरे ख़ुद को समेटे हुए है अब...
वादा था साथ जीने का मरना है साथ अब...
तुझ को क़सम वफ़ा की, तू दूरी मिटा दे अब...
Wednesday, August 2, 2017
زندگی میں لوگوں کی اہمیت
آغوشِ مادر سے لے کر آغوشِ قبر تک انسان دوسرے لوگوں پر منحصر رہتا ہے اور اپنے اطراف کے لوگوں میں اپنے لئے خوشی ڈھونڈتا ہے۔ بچہ والدین کے آغوش میں سکون پاتا ہے۔ اور وہی بچہ ماں باپ کیلئے آنکھوں کا نور اور دل کا سکون ہوتا ہے۔ بہن بھائی کا معصوم سا رشتہ، ایک پَل کیلئے لڑنا اور اگلے ہی پَل ایکدوسرے کیلئے تڑپنا۔ بیوی اور شوہر کا پاکیزہ رشتہ ایکدوسرے کیلئے تسکینِ روح و تسکینِ قلب کا ذریعہ ہے، ایک حسین رشتہ جو پیار، محبت، اعتماد، وفا، ایثار، قربانی، درگذر، معافی جیسے بے شمار عناصر کا مرکب ہے۔اسی طرح ایک اور نا قابلِ فراموش رشتہ دوستی کا بھی ہے۔ اس عیاں سچّائی سے کوئی چشم پوشی نہیں کر سکتا کہ وہ انسان کبھی دکھی و پریشان نہیں ہو سکتا جس کے پاس اچھے اور مخلص دوستوں جیسا سرمایہ ہو۔ دوست وہ ہوتے ہیں جو خوشیوں میں ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور مشکل وقت میں ہمیں ہمّت و حوصلہ دیتے ہیں اور ہمارے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوتے ہیں۔
زندگی کے ہر موڑ پر انسان کا نئے نئے لوگوں سے سامنا ہوتا ہے، روابط بڑھتے ہیں، کوئی خوشی کا ذریعہ بنتا ہے تو کوئی دل دُکھانے کا سبب۔ یعنی زندگی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ اور وقت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ انسان اچھے اور بُرے لوگوں کے روبرو ہوتا رہتا ہے۔ کچھ لوگ ہمارے دل و دماغ، ہماری پسند نا پسند، ہماری خوشی و ناراضگی اور ہمارے دل کی کیفیات سے واقف ہوتے ہیں تو کوئی ناآشنا۔ اس موقع پر انور شعور کا ایک شعر یاد آتا ہے۔۔۔۔۔
آشنائے درد و دل، ناآشنائے درد و دل
مالیگاؤں، مہاراشٹر Contact: +91-9822269031
Wednesday, July 26, 2017
بھید بھاؤ
جبلہ بن الایہم الغسانی (قبیلہ بنو غسان کا سردار) جب مسلمان ہوا ایک دن کعبہ کے طواف کے دوران ایک مسلمان دیہاتی کا پیر اس کی چادر پر آگیا، اس نے اس مسلمان دیہاتی کو تھپڑ مار دیا، تھپڑ کی وجہ سے ان کے دو دانت ٹوٹ گئے اور ناک بھی زخمی ہو گئی۔ یہ دیہاتی مسلمان حضرت عمر فاروق رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور جبلہ بن ایہم کے سلوک کی شکایت کی۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جبلہ بن ایہم کو طلب فرمایا اور پوچھا :کیا تو نے اس دیہاتی کو تھپڑ مارا ہے؟ جبلہ نے کہا: ہاں میں نے تھپڑ مارا ہے، اگر اس حرم کے تقدس کا خیال نہ ہوتا تو میں اسے قتل کر دیتا۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: اے جبلہ ! تو نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے، اب یا تو اس دیہاتی سے معافی مانگ یا میں تم سے اس کا قصاص لوں گا۔ جبلہ نے حیران ہو کر کہا: کیا آپ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس غریب دیہاتی کی وجہ سے مجھ سے قصاص لیں گے حالانکہ میں تو بادشاہ ہوں ؟ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: اسلام قبول کرنے کے بعد حقوق میں تم دونوں برابر ہو۔ جبلہ نے عرض کی : مجھے ایک دن کی مہلت دیجئے پھر مجھ سے قصاص لے لیجئے گا۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس دیہاتی سے دریافت فرمایا :کیا تم اسے مہلت دیتے ہو؟ دیہاتی نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے مہلت دے دی، مہلت ملنے کے بعد راتوں رات جبلہ بن ایہم غسانی ملک شام کی طرف بھاگ گیا اور اس نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔ اور ملک شام کی کسی جنگی مہم میں وہ مسلمانوں کے مقابل ہوا اور واصلِ جہنم ہوا۔
اگر وہ بھید بھاؤ کی وجہ سے مرتد نہ ہوا ہوتا تو آج تاریخ اسلام میں اس کا نام سنہرے حروف میں لکھا ہوتا لیکن وہ مرتد ہو کر ذلیل وخوار ہوا۔
غیر اقوام کا مسلمانوں کے ساتھ بھید بھاؤ، چونکہ ہم ہندوستانی ہیں یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں۔ ہم بحیثیتِ مسلمان ہندوستان کی سب سے بڑے اقلیتی طبقے کی حیثیت رکھتے ہیں جسکی وجہ سے ہم روز بروز اکثریتی طبقے کے بھیدبھاؤ کا نشانہ بنتے رہتے ہیں، لیکن اس امرِ حقیقی سے کوئی انکار نہیں کر سکتا(اکثریتی طبقہ بھی) کہ اس ملک میں حکومت کرنے سے لیکر ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کروانے تک اور آزادی کے بعد سے اب تک اس ملک کی تعمیر و ترقی میں ایک اہم کردار ہم مسلمانوں کا ہے۔ یہ تمام عالم پر عیاں ہے اس کے باوجود اس ملک میں ہمارے ساتھ بھیدبھاؤ کیا جاتا ہے، ہماری مذہبی آزادی پر پہرے لگانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ بھارت ماتا کی جئے کہنے کا معاملہ ہو، گائے کی نسل کے مذبحہ کا معاملہ ہو یا اذان کے لاؤڈ اسپیکر کا معاملہ ہو۔ کیا اس ملک کے منادر پر ان فرقہ پرستوں کی نظر نہیں جاتی جہاں کسی قسم کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا، جیسے کہ غیر قانونی جگہوں پر منادر تعمیر کرنا، مذہبی تہواروں پر غیر قانونی طریقے سے دن ہو یا رات تیز آواز میں لاؤڈ اسپیکر بجانا، مذہبی تہواروں پر عوام سے(بغیر تفریقِ مذہب و ملت) جبراً چندہ وصول کرنا وغیرہ ان جیسے کئی اور امور ہیں جس پر حکومت اور حکومت کے زرخرید میڈیا چشم پوشی کئے ہوئے ہیں۔ میرا سوال ہے حکومت سے اور اس کے زرخرید میڈیا سے کہ ہمارے ملک میں ہم ہی سے یہ بھید بھاؤ کیوں؟؟؟؟؟
Wednesday, July 5, 2017
نظم
قدم حضرت آدم نے رکھّا یہیں پر
یہیں پر ہے مدفون صوفی، قلندر
یہیں ادباء، شعراء، و دانشور گزرے
یہ چشتی، قطب و رضا کی زمیں ہے
نشانِ محبت کا ہر دل پے راج
تناور درخت بن کے دنیا میں ابھرا
وطن سے محبت کا اعلیٰ جنوں ہے
کہیں اور جاؤ یہاں تم کیوں رہتے
ہے ہندوستاں میرے ابَّا کا گھر
Contact: +919822269031








