غزل
شدّتِ غم کے عجب مراحل میں
عمر گزری ہے ہجر کے پل میں
شہرِ جاناں میں سر جھکائے ہوئے
جا کھڑا ہوں میں کوئے قاتل میں
بے رخی کے تھے تیر کچھ ایسے
تاب باقی نہ تھی مرے دل میں
ہر گھڑی محوِ فکرِ جاناں ہوں
ہوش باقی نہیں ہے غافل میں
دردِ فرقت کا اک یہی مرہم
عکسِ جاناں ہے ماہِ کامل میں
یارِ محسن کا ہے کرم ایسا
عشق روشن ہوا ہے جاہل میں
نامِ محسن لبوں پہ رہتا ہے
جان باقی ہے اسی محفل میں

