غزل
شدّتِ غم کے عجب مراحل میں
عمر گزری ہے ہجر کے پل میں
شہرِ جاناں میں سر جھکائے ہوئے
جا کھڑا ہوں میں کوئے قاتل میں
بے رخی کے تھے تیر کچھ ایسے
تاب باقی نہ تھی مرے دل میں
ہر گھڑی محوِ فکرِ جاناں ہوں
ہوش باقی نہیں ہے غافل میں
دردِ فرقت کا اک یہی مرہم
عکسِ جاناں ہے ماہِ کامل میں
یارِ محسن کا ہے کرم ایسا
عشق روشن ہوا ہے جاہل میں
نامِ محسن لبوں پہ رہتا ہے
جان باقی ہے اسی محفل میں


ہم کو معلوم ہے عشق معصوم ہے
ReplyDeleteدل سے ہوجاتی ہے غلطیاں
اجو عشق سے دل یہ محروم ہیں
چلو محسن محبت کی نئی بنیاد رکھتے ہیں
ReplyDeleteخود پابند رہتے ہیں اُسے آزاد رکھتے ہیں
ہمارے خون میں رب نے یہی تاثیر رکھی ہے
برائی بھول جاتے ہیں اچھائی یاد رکھتے ہیں
محبت میں کہیں ہم سے گستاخی نہ ہوجائے،
ہم اپنا ہر قدم اُسکے قدم کے بعد رکھتے ہیں
چلو محسن محبت کی نئی بنیاد رکھتے ہیں
ReplyDeleteخود پابند رہتے ہیں اُسے آزاد رکھتے ہیں
ہمارے خون میں رب نے یہی تاثیر رکھی ہے
برائی بھول جاتے ہیں اچھائی یاد رکھتے ہیں
محبت میں کہیں ہم سے گستاخی نہ ہوجائے،
ہم اپنا ہر قدم اُسکے قدم کے بعد رکھتے ہیں
واہ اجّو بھائی
Delete